Jul 9, 2016

Edhi Began Humanity Services In 1951

Edhi Began Humanity Services In 1951
Edhi Began Humanity Services In 1951
معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی1928میں بھارتی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے ۔ تقسیم ہند کے بعد1947 میں اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آئےا ور کراچی میں سکونت اختیار کی ۔

دکھی انسانیت کی خدمات کا آغاز انہوں نے 1951میں کیا اور ایک ڈسپنسری قائم کی جہاں ایک ڈاکٹرسے طبی امداد کی تربیت حاصل کی۔16 اگست 2006ء کو بلقیس ایدھی اور کبریٰ ایدھی کی جانب سے ایدھی انٹرنیشنل ایمبولینس فاؤنڈیشن کے قیام کااعلان کیا گیا۔

عبدالستار ایدھی نے اپنی ساری زندگی سادگی میں گزاری اور سادہ زندگی کو ترک نہیں کیا۔انسانیت کے لئے بے لوث خدمات پر انہیں دودرجن سے زائدبین الاقوامی و قومی ایوارڈز سے نوازا گیا۔

1957ء میں کراچی میں فلو کی وبا پھیلی جس پر انہوں نے شہر کے نواح میں خیمے لگوائے اور ادویات فراہم کیں۔ جس کے بعد مخیر حضرات نے انکی مدد کے سلسلے کو شروع کیا۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری تھی اور زچگی کے لیےایک سینٹر اور نرسوں کی تربیت کے لیےا سکول کھول لیا۔ یہیں سے ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز ہوا۔

کچھ عرصہ بعدانہوں نے ایمبولینسیں خریدیں جن کا سلسلہ پورے ملک کے طول وعرض میں پھیلایا۔اس کے ساتھ انہوں نےایئر ایمبولینس، کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بینک،لارواث میتوں کی تدفین کےلئے قبرستان، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں ،سردخانےاورا سکول کھولے۔

1980 کی دہائی میں پاکستانی حکومت نے انہیں نشان امتیاز دیا۔ پاکستانی فوج نے انہیں شیلڈ آف آنر پیش کی جبکہ 1992 میں حکومت سندھ نے انہیں سوشل ورکر آف سب کونٹی نینٹ کا اعزاز دیا۔بین الاقوامی سطح پر 1986 میں عبدالستار ایدھی کو فلپائن نے رومن میگسے سے ایوارڈدیا۔

1993 میں روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں پاؤل ہیرس فیلو دیا گیا۔ 1988 میں آرمینیا میں زلزلہ زدگان کے لئے خدمات کے صلے میں انہیں امن انعام برائے یو ایس ایس آر دیا گیا۔

عبدالستار ایدھی کی خدمات پر انہیں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن اور ہمدرد فاؤنڈیشن سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں بھی دی گئیں ۔

عبدالستار ایدھی کے گردے گزشتہ کئی سالوں سے ناکارہ ہوگئے تھے جس پر ان کا ایس آئی یو ٹی سے باقاعدگی سے ڈائیلسز کیاجاتا تھا۔ ان کی عمر 92سال تھی ۔انہوں نے پسماندگان میں بیوہ، 2بیٹے اور 2بیٹیاں چھوڑی ہیں 

No comments:

Post a Comment

Please Add Your Comments and Reviews Here.